Summary: "Is a Woman’s Income Haram? | Can a Woman Work or Do Business?"
Mufti Tariq Masood discusses the increasing trend of women working outside the home and offers a strong critique of liberal and secular influences on Muslim society. He emphasizes the following points:
- Women's Work and Dignity: He believes that making women drive taxis, deliver on bikes, or serve in jobs like air hostess is not progress but a form of humiliation. These, he argues, are not respectable roles for women and reflect societal failure to protect and provide for them.
- Poverty Is Not a Shame: He stresses that financial hardship is not dishonorable and that families should prefer a modest lifestyle over compromising the dignity of women by sending them out to earn.
- Role of Men: According to him, it's the responsibility of men to earn and support their families. He criticizes men who fail to do so and push their wives or daughters into the workforce.
- Marriage Over Career: He suggests that promoting early and multiple marriages (polygamy) among men would resolve many issues for women, offering them financial stability and respect instead of forcing them into the workforce.
- Criticism of Liberal Values: He accuses liberal and secular voices of promoting a system where women's dignity is sacrificed in the name of freedom and modernity. He believes such ideologies are responsible for the destruction of traditional family structures.
- Western Societies: He claims that despite economic progress, Western societies have degraded the status of women, forcing them into hard labor while juggling childcare, which he considers unfair and disgraceful.
- Personal Stance: Mufti Tariq shares his personal experience of refusing to let his wife work, despite financial challenges, to uphold family honor and traditional Islamic values.
- Nutrition and Poverty: Towards the end, he downplays the elite obsession with calorie-counting and modern health fads, asserting that poor people can live healthy, long lives on simple food.
یہ ویڈیو مفتی طارق مسعود کے بیان کا خلاصہ ہے:
خلاصہ: "کیا خواتین کی کمائی حرام ہے؟ | کیا عورت نوکری یا کاروبار کر سکتی ہے؟"
مفتی طارق مسعود معاشرے میں خواتین کے باہر کام کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کرتے ہیں اور درج ذیل نکات پر زور دیتے ہیں:
- عورت کی عزت اور کام: وہ کہتے ہیں کہ عورتوں سے ٹیکسیاں چلوانا، بائیکیا پر کام کروانا یا ایئر ہوسٹس بنانا کوئی ترقی نہیں بلکہ بے عزتی ہے۔ یہ معاشرے کی ناکامی ہے کہ وہ عورت کو کمانے پر مجبور کر رہا ہے۔
- غربت کوئی عیب نہیں: وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر حالات مشکل ہوں تو بھی عورت کو گھر میں رکھنا چاہیے۔ سوکھی روٹی کھا لینا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ عورت باہر جا کر محنت کرے۔
- مرد کی ذمہ داری: وہ کہتے ہیں کہ کمانا مرد کی ذمہ داری ہے۔ مردوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں کو سہارا دیں اور انہیں عزت سے گھر میں رکھیں۔
- شادی کو ترجیح: وہ معاشرے میں ایک سے زائد شادیوں کے رجحان کو عام کرنے کی بات کرتے ہیں تاکہ عورتوں کو عزت دار اور محفوظ زندگی مل سکے۔
- لبرل اور سیکولر نظریات پر تنقید: وہ کہتے ہیں کہ لبرل طبقہ عورت کی آزادی کے نام پر اس کی عزت کو پامال کر رہا ہے۔ یہ طبقہ خود تو تباہ ہو چکا ہے، اب چاہتے ہیں کہ داڑھی رکھنے والے لوگ بھی اپنی عورتوں کو برباد کر لیں۔
- مغربی معاشرے کی مثال: وہ مغربی دنیا کی ترقی کو محض مادی قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہاں عورت کی کوئی عزت نہیں بچی۔ وہ عورت کو بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں، بازاروں میں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
- ذاتی مثال: مفتی طارق کہتے ہیں کہ انہوں نے خود مالی مشکلات کے باوجود اپنی بیوی کو کبھی کام کرنے کی اجازت نہیں دی، کیونکہ وہ عزت کو اہم سمجھتے ہیں۔
- صحت و خوراک: وہ امیروں کی خوراک اور کیلوریز گننے کے شوق پر بھی تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غریب انسان سادہ روٹی کھا کر بھی لمبی عمر گزار سکتا ہے۔
إليك ملخصًا باللغة العربية لمحتوى الفيديو الذي يتناول خطاب الشيخ مفتي طارق مسعود:
الملخص: "هل دخل المرأة حرام؟ وهل يجوز لها العمل أو إدارة مشروع؟"
يتحدث الشيخ طارق مسعود في هذا المقطع عن ظاهرة خروج النساء للعمل، وينتقد المفاهيم الليبرالية التي أدت، برأيه، إلى إهانة مكانة المرأة في المجتمع. وفيما يلي أبرز النقاط التي ذكرها:
- كرامة المرأة والعمل: يرى أن إجبار المرأة على قيادة سيارات الأجرة أو توصيل الطلبات أو العمل كمضيفة جوية، هو إهانة وليس حرية. ويعتبر هذا علامة على تقصير الرجال في واجبهم تجاه النساء.
- الفقر ليس عيبًا: يشدد على أن العيش بالقليل، ولو على خبز يابس، أكرم من إرسال النساء للعمل خارج المنزل.
- مسؤولية الرجل: يعتبر أن النفقة وتأمين متطلبات الأسرة من واجبات الرجل، وليس من مسؤولية المرأة.
- تشجيع تعدد الزوجات: يرى أن التعدد وسيلة لحفظ كرامة النساء، خصوصًا من الأسر الفقيرة، ويمنحهن حياة مستقرة ومحترمة.
- انتقاد الفكر الليبرالي: ينتقد التيارات الليبرالية والعلمانية التي، في رأيه، دمرت النساء في الغرب، ويريدون تكرار نفس التجربة في المجتمعات المسلمة.
- أمثلة من الغرب: يوضح كيف تُجبر النساء في الغرب على العمل الشاق في الفنادق والأسواق، مع تربية الأطفال في نفس الوقت، مما يهدر كرامتهن.
- تجربته الشخصية: يقول إنه رغم الضيق المالي، لم يسمح لزوجته بالعمل، مؤكدًا أن الشرف أهم من المال.
- التغذية والصحة: يقلل من أهمية الأنظمة الغذائية المعقدة التي يتبعها الأغنياء، ويقول إن الفقير يمكن أن يعيش عمرًا طويلًا بأبسط الطعام.